عُشر کی شرعی حیثیت اور اس کا مصرف
:سوال
عُشر ادا کرنے کی کیا شرح ہے؟ اور عُشر کے مستحقین کون ہیں؟ کیا حکومتِ وقت کو بھی عُشر دیا جا سکتا ہے؟
عشر کے باب میں کوئی حد مقرر نہیں ہے، پیداوار کم ہو یا زیادہ، دونوں صورتوں میں پیداوار پر عشر لازم ہو گا۔ پھر اگر وہ زمین سال کے اکثر حصے میں قدرتی آبی وسائل (بارش، ندی، چشمہ وغیرہ) سے سیراب کی جائے تو اس میں عشر یعنی کل پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہو گا، اور اگر وہ زمین مصنوعی آب رسانی کے آلات و وسائل مثلاً: ٹیوب ویل یا خریدے ہوئے پانی سے سیراب کی جائے تو اس میں نصف عشر یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہو گا۔
نیز واضح رہے کہ کھیتی کی تیاری میں جو اخراجات ہوتے ہیں، مثلاً: آب رسانی، مزدوری، کھاد وغیرہ انہیں آمدنی سے منہا نہیں کیا جائے گا (یعنی اخراجات نکالنے سے پہلے عشر نکلے گا)، بلکہ مجموعی پیداوار میں سے عشر نکالنا ضروری ہو گا۔ عشر یا نصف عشر ادا کرنے سے پہلے قرض وغیرہ دیگر اخراجات کی رقم بھی الگ نہیں کی جائے گی۔
عشر کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا مصرف ہے، یعنی جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مقدار ضروریاتِ اصلیہ سے زائد مال یا سامان نہیں ہے، ایسے شخص کو عشر دیا جا سکتا ہے۔
جس طرح زکوٰۃ اپنی آل کو نہیں دی جا سکتی، عشر بھی اپنی آل کو نہیں دیا جا سکتا، ہاں مستحق رِشتہ داروں/قرابت داروں، ہمسایوں، دوسرے غریب کسانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
اگر کوئی شخص غریب ہے، یتیم ہے، اور اس کا گزارہ فقط زرعی زمین پر ہے، تب بھی ایسے شخص پر زمین کی پیداوار ہونے کی صورت میں کل پیداوار کا عشر یانصف عشر اوپر ذکر کردہ تفصیل کے مطابق لازم ہوگا۔
سال میں جتنی دفعہ بھی کھیتی آئے (یعنی 2 یا 3 مرتبہ)، ہر کھیتی پر عشر دینا لازم ہے۔ چاہے جنس/غلہ کی صورت میں دے، یا چاہے رقم کی صورت میں۔ اگر فوری کھیتی کے آخر میں نہیں دے سکتا تو حساب کر کے تمام کھیتیوں کا عشر سال کے آخر میں دے دے۔ (سال ختم ہونے سے پہلے یا رمضان میں بھی دے سکتا ہے)
مثال: اگر کسی شخص نے گزشتہ سال گندم بونے سے پہلے زمین ٹھیکہ پر لی تھی یا اپنی زمین پر گندم کاشت کی تھی۔ زمین تھوڑی ہو یا زیادہ جتنی بھی پیداوار ہوئی ، جیسے اگر 10 ٹن گندم نکلی، تو اسکو 1 ٹن اس صورت میں گندم یا گندم مارکیٹ میں بیچ کر اسکی رقم اس صورت میں ادا کرنا ہے اگر زمین کو پانی قدرتی وسائل سے ملتا ہے۔ اور آدھا ٹن گندم اگر پانی مصنوعی وسائل سے ملتا ہے۔
اگر حکومت کا کوئی ایسا ادارہ ہے جو عشر کو امانت کے ساتھ متذکرہ بالا مصرف تک پہنچا دے تو اس ادارے کو عشر دیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو حکومت کو عشر دینا بھی جائز نہیں۔ (بہتر یہی ہے کہ عشر اپنے ہاتھ سے ادا کیا جائے)
فقط واللّٰه اعلم
''بدائع الصنائع '' میں ہے
"ومنها: أن يكون الخارج من الأرض مما يقصد بزراعته نماء الأرض وتستغل الأرض به عادةً، فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب الفارسي؛ لأن هذه الأشياء لا تستنمى بها الأرض ولا تستغل بها عادة؛ لأن الأرض لا تنمو بها، بل تفسد، فلم تكن نماء الأرض، حتى قالوا في الأرض: إذا اتخذها مقصبةً وفي شجره الخلاف، التي تقطع في كل ثلاث سنين، أو أربع سنين أنه يجب فيها العشر؛ لأن ذلك غلة وافرة". (2 / 58، فصل الشرائط المحلیة ط: سعید)
فقط واللّٰه اعلم